14 اپریل 2012 - 19:30

بین الاقوامی مبصرین شام روانہ کئے جانے کی قرارداد کی منظوری کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا کل کا سات گھنٹے کا اجلاس بے نتیجہ رہنے کے بعد اس قرارداد میں اصلاح کے ساتھہ آج پھر اس کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

ابنا: کل کے اجلاس میں روس اور چین نے ایک بار پھر مخالفت کا اظہار کیا اسلئے کہ مسودے کے بعض نکات کوفی عنان کے منصوبے سے باہر تھے جن سے شام کے اقتدار اعلی کو نقصان پہنچ سکتا تھا ۔ جس کے بعد روس نے اس میں اصلاح کرکے یہ مسودہ مغربی ملکوں کو پیش کردیا ۔ چین کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھی قرارداد کے مسودے میں اصلاح کی حمایت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امید کی جاتی ہے کہ اس قرارداد کی منظوری سے شام میں تشدد و بدامنی کم ہوجائے گی اور اس ملک کا مسئلہ سیاسی طریقے سے حل کرلیا جائے گا ۔ شام کا بحران سفارتی طریقے سے حل کرنے کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس اور چین کی کوششوں کے باوجود مغربی ممالک کا مقصد شام کا بحران ختم کرنا نہیں بلکہ وہ بین الاقوامی مبصرین شام روانہ کئے جانے سے کسی اور مقصد کے درپے ہیں ۔

بین الاقوامی مبصرین شام روانہ کئے جانے کا منصوبہ پہلے عرب لیگ اور قطر و سعودی عرب کی کوششوں سے سلامتی کونسل میں شام کے مسئلے میں پیش ہوا جبکہ عرب لیگ کے مبصرین کی رپورٹ میں کوئی ایسی بات نہیں تھی جو قطر اور سعودی عرب کا مقصد پورا کرتی اسلئے پھر بین الاقوامی مبصرین شام روانہ کئے جانے کا مسئلہ اٹھا دیا گیا جس کے تحت مغربی ممالک اپنا ایک اہم ترین ہدف یعنی شام کی جاسوسی کرنے کا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں حالانکہ وہ کوفی عنان کے منصوبے کی حمایت کے نعرے لگاکر شام میں مسلح گروہوں کی حمایت کو بھی اپنا اہم مقصد بنائے ہوئے ہیں ۔ وہائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر بارک اوباما نے شام کے حکومت مخالفین کو غیر فوجی امداد ارسال کرنے کی اجازت دیدی ہے اس امداد میں دوائیں اور مواصلاتی آلات بھی شامل ہیں ۔

سیاسی مسائل کے تجزیہ کار سامی رمضان نے بھی کل پریس ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی اور ان کے اتحادی ممالک نہیں چاہتے کہ شام میں امن قائم ہو ۔ اس سیاسی مبصر نے فائر بندی کے صرف ایک روز بعد شام کے فوجیوں پر باغیوں کے حملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی اور ان کے اتحادی ممالک کی جانب سے شام کے حکومت مخالفین کو ہتھیاروں سے مسلح کئے جانے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ شام کے امور میں بیرونی مداخلت کا مقصد اس ملک میں جمہوریت اور امن و استحکام برقرارکرنا ہرگز نہیں ہے بلا تردید شام میں بشار اسد کی حکومت کے مخالف ملکوں کی مداخلت اگر ختم یا کم ہوجائے تو اس ملک کے متحارب فریق کسی ایک مصالحتکار ملک کے ذریعے سے جو شام کا بحران پرامن طریقے سے حل کئے جانے کا خواہاں ہو اپنی بات چیت سے مسئلہ حل کئے جانے کی راہ ہموار کرسکتے ہیں ۔ اور روس ایسے ہی ایک ثالث ملک کی حیثیت سے شام کا بحران اس ملک کی حکومت اور حکومت مخالفین کے درمیان مذاکرات کے ذریعے حل کرانے کی کوشش کررہا ہے ۔ اسی مقصد کے تحت حسن عبد العظیم کی زیر قیادت شام کے حکومت مخالفین کا ایک وفد روسی حکام سے گفتگو کیلئے آئندہ پیر کو ماسکو کے دورے پر بھی جارہا ہے۔
.......

/169